وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ۔۔۔ گرفتاریاں ، تحریک لبیک قیادت نے کارکنوں کو بالآخر حکم جاری کردیا

اسلام آباد(نیو زڈیسک) حکومت نے آسیہ بی بی کی توہین رسالت ؐ کیس سے بریت کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو تین روز تک جاری رہا ۔ان دنوں میں نہ صرف ملک کی اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا بلکہ مظاہرین نے کئی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کیا اور املاک کو نقصان

پہنچایا۔حکومت نے دو روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے املاک کو نقصان پہنچانے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور ان تمام افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس کے بعد سے تحریک لبیک کے کئی کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم اب سرگرم کارکنوں کی گرفتاری پر دھرناقائدین بھی تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔دھرنا قائدین کی جماعتیں جہاں ایک طرف توڑ پھوڑ کرنے والوں اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی گرفتاری میں حکومت کی مدد کر رہی ہیں وہیں ان جماعتوں کے قائدین اس تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ توڑ پھوڑ ، جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے میں تو تنظیموں اور جماعتوں کے کئی سرگرم کارکنان بھی ملوث ہیں جن کی نشاندہی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے کی گئی ہے۔دھرنا پارٹیوں کی قیادت اگر ایسے کارکنان سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے تو اس سے عام کارکنان میں مایوسی پھیلنے کا اندیشہ ہے ، اور یہ تمام ایسے کارکنان ہیں جو اپنے قائدین کی ایک آواز پر جان کی بازی لگانے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے پارٹیوں کے کارکنان بھی پریشان ہیں کہ ایسے ہی واقعات میں اگر قیادت نے ان سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا تو پھر گرفتار ہونے والے کارکنوں کا مستقبل کیا ہو گا۔اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تھریک لبیک کے قائد خادم حسین رضوی کی زیر صدارت لاہور میں ایک اجلاس بھی ہوا جس میں کارکنوں کے خلاف بنائے جانے والے کیسز ، اور ان کی گرفتاریوں کے علاوہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر قائدین کے سوشل میڈیا اکاؤںٹس بند کیے جانے اور اب متبادل اکاؤنٹس بنانے پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تحریک لبیک کی قیادت نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو اس کام کے متحرک ہونے کی ہدایات کر دی ہیں اور انہیں کہا ہے کہ وہ بند کیے جانے والے اکاؤنٹس کے متبادل اکاؤنٹس بنائیں اور آفیشل اکاؤنٹس کا بیک اپ بھی محفوظ کیا جائے تاکہ اگر ایک اکاؤنٹ بند ہو تو بیک اپ کی مدد سے نیا اکاؤنٹ کھولا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *